Topic

Abbas Kamangar

میرا خیال ہے کہ مصوری کو مکمل مادیت کی طرف نہیں لے جایا جاسکتا فلاسفی، الجبرا اور دیگر علوم سے مدد لی تولی جا سکتی ہے مگر اسکو کس علوم کے طابعے کر کے اسںکی شاخ کے درجے پر نہیں رکھ سکتے مصور کی اپنی ذاتی سوچ اور الہامی کیفیت ہوتی ہے جواسکے فن پارے میں موجود ہوتی ہے مصور کی الہامی کیفیت مصور کو روحانی طور سے ایک غیر ماورائی دنیا میں رکھتی ہے وہ دور حاضر میں رہتے ہوئے بھی اپنے وجود کو دنیا کا حصہ نہیں سمجھتا وہ درختوں پھولوں پتھروں در و دیوار عریاں جسم اپنے فن پاروں اپنے آپ سے شیطانوں اور اللہ سے محو گفتگو رہتااسے اسکی اندر کی آنکھ دن رات ایسے مناظر دیکھ رہی ہوتی ہے کہ اس کو بصری وجود میں کینوس پر منتقل کرنے کیلئےانتہائی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہےاس کی مصوری آنے والے دور کیلئے ہوتی ہے اگر وہ اپنی طبعی زندگی کے روزمرہ کے معمولات پر بھی مصوری کردے تو وہ بھی آنے والی نسلوں کیلئے سوچ کے دریچے کھول دیتی ہے مصور تمام دنیاوی علوم کی کا احترام کرتے ہوئے اس سے استفادہ حاصل کرتا رہتا ہے مگر مرعوب نہ کسی علوم سے ہوتا اور نہ ہی اس پر دسترس رکھنے والے سے، وہ اس قافلے کا مسافر ہے جسکا اپنا راستہ اپنی منزل اور اپنا رہنما وہ خود ہوتا ہے مصور کسی کی علمی قابلیت مرتبے شان و شوکت کو تسلیم نہیں کرتا وہ ان کو اپنی غیر ماورائی دنیا کے کھوٹے سکے سمجھتا ہے مگر اسے اپنی مادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کبھی Rembrandt کی طرح کی لوگوں کے سامنے رقص اور کبھی Michelangelo کی طرح پادری سے معافی بھی مانگنی پڑتی ہے

Art and design element by (SHAHID HUSSAIN

پاکستان میں ٹرک آرٹ اور اس تاریخ

Abbas Kamangar

ٹرک آرٹ پاکستان میں کس طرح شروع ہوا اسکو کس نے شروع کیا. ٹرک آرٹ جس کا اصل نام ٹرک پے پینٹنگ ہے یہ 1960 کی دہائی میں کراچی کے علاقے گارڈن جہاں ٹرک کی باڈی میکر کے ورکشاپ تھے وہاں سے شروع ہوا ٹرک پے پینٹنگ یا ٹرک آرٹ حسن صاحب جو بابو بھائی کے نام سے مشہور ہوئے انہوں نے شروع کیا حسن صاحب بہت اچھے فائن آرٹسٹ تھے آرٹ سے ان کے خاندان کی وابستگی تقریباً200 پرانی ہے حسن صاحب انڈیا کے صوبے گجرات سے تعلق رکھتے تھے پاکستان بننے کے بعد وہ کراچی کے علاقے رنچھوڑلائن میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر ہوئے حسن صاحب انڈیا میں راجاؤں اور صاحب حیثیت لوگوں کے گھروں کی دیواروں چھتوں پر پینٹنگ کرنے کے علاوہ ان کے پورٹریٹ بھی بنایا کرتے تھے پاکستان آنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا تھا اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے ٹرک پر پھول پتی لینڈ اسکیپ جانورں کی پینٹنگ بنانا شروع کی یوں پاکستان میں ٹرک آرٹ کی بنیاد حسن صاحب نے رکھی اس کام کو پٹھان بہت پسند کرنے لگے ٹرک کے زیادہ تر مالکان اور ڈرائیور پٹھان تھے انہوں اس کو بہت فروغ دیا اور نہ صرف منہ مانگے پیسے دئیے بلکہ حسن صاحب کی بہت عزت کرنے لگے حسن صاحب کے ساتھ ان کے 3 صاحبزادے یوسف، انور اور سلیم بھی کام کرنے لگے ٹرک آرٹ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کا سہرا دریہ قاضی کے سر جاتا اس سلسلے میں وہ حسن صاحب کے صاحبزادے یوسف کو جاپان بھی لیکر گئ تھی ٹرک آرٹ حسن صاحب کی تخلیق ہے اور یہ تخلیق اسطرح وجود میں آکر پاکستان کا آرٹ کہلائی پاکستان میں ٹرک آرٹ کی تاریخ کو مسخ ہونے سے بچانے اور حقیقت کومنظر عام پر لانے کیلئے میری یہ تحریر ریکارڈ کا حصہ ہے تحریر عباس کمانگر

Installation Art by (SADIA ATIF)

مصوری کے میدان میں نئے آنے والوں کی سوچ اور مسائل

Abbas Kamangar

مصوری کے میدان میں نئے آنے والوں کی سوچ اور مسائل. تحریر عباس کمانگر

مصوری کے شبعے یا میدان میں قدم رکھنے والے نئے لوگ جو مختلف درسگاہوں سے آکر اسےاپنا پیشہ بنانے کے خواہشمند ہوتے ہیں انہیں یہ شکایت ہوتی ہیں کہ جونیئر کے کام کی سینئر مصور اور آرٹ گیلریاں حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہوسکتا ہے ان میں چند جونیئر کی شکایت بجا ہوں لیکن سب کو حوصلہ شکنی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرنا درست نہیں اس ملک میں کچھ ایسے سنیئر مصور، آرٹ گیلریاں اور آرٹ سوسائٹیز موجود ہیں جو اپنا قیمتی وقت اور ذاتی وسائل سے مصور اور مصوری کے فروغ کیلئے سے کوشاں ہیں ان میں محمد جاوید صاحب جو NCA سے فارغ التحصیل ہیں اور کوپیرا آٹ گیلری لاہور کو چلا رہے ہیں ہمیشہ جونیئرز کی درست رہنمائی کرنے کے علاوہ صحیح مشورے اور اپنی گیلری میں نمائش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں آج میں جس مقام پر ہوں اس میں انکے تعاون اور رہنمائی کا بھی بڑا حصہ ہے اس کے علاوہ سنیئر مصور میاں اعجاز الحسن صاحب اور غلام مصطفٰے صاحب آرٹسٹ ایسوسی ایشن آف پنجاب سے مصوری کے فروغ کیلئے پچھلے 4 عشروں سے سرگرم ہیں اور ہر سال باقاعدگی سے نمائش کا انعقاد کرتے ہیں کراچی میں علی امام صاحب نے بھی اپنی زندگی میں جونیئرز کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اس وقت بھی کراچی میں سنئیر مصور جونیئرز کومشورے دیتے رہتے ہیں مگر جونیئرز کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ محنت کرنا نہیں چاہتے اپنے آپ کو کل سمجھ کر راتوں رات بڑے مصور بننے کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں ان میں جو آرٹس کے بڑے مدارس سے فارغ التحصیل ہوکر آئے ہوئے ہوتے ہیں انکی گردن سے تو سریا ہی نہیں نکلتا اور ان کی نظر میں مصوری کا فروغ صرف انکے اسلوب کے حامل فن پاروں کی فروخت سے ہی وابستہ ہے دیگر جونیئرز اپنے کمزور کام کو پزیرائی نہ ملنے کی وجہ کمرشل آرٹ گیلرز کا عدم تعاون بتاتے ہیں کا ان کا کہنا ہے کہ یہ گیلریز صرف من پسند مصوروں کے کام کو اپنی گیلریز میں رکھتی ہیں اور فروخت کرتی ہیں جبکہ درحقیقت کمرشل آرٹ گیلریز والوں کی آرٹ کی مارکیٹ پر بڑی گہری نظر ہوتی ہے انہیں اس کا علم ہوتا ہے ک کس مصور کا کام وہ فروخت کرسکتے ہیں کمرشل آرٹ گیلریز کبھی یہ نہیں چاہےگی کہ اچھے کام کو رد کر کے اپنا نقصان کر لیں کیونکہ اسے معلوم کہ اس نے اگر اچھے کام کو نہ لیا تو اس کا کاروباری حریف اس کام کو لیکر فائدہ اُٹھا سکتا ہے

Symbolism by (ROMANA SHAHID)